نئی دہلی، 29 جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سابق ایئر چیف مارشل انل ٹپنس نے کہا ہے کہ کارگل جنگ کے وقت سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی پاکستان کے خلاف ایئر فورس کا استعمال کرنا نہیں چاہتے تھے۔یہی نہیں ٹپنس نے کہا کہ واجپئی نے فوج کو لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔سابق نیوی چیف سشیل کمارکی طرف سے لکھی گئی کتاب کی لانچنگ کے وقت انل ٹپنس نے اس واقعات کو یاد کیا جب 1999 میں ان کی اور اس وقت کے آرمی چیف وید ملک کی میٹنگ اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ ہوئی تھی۔ٹپنس نے کہا کہ واجپئی جنرل ملک سے جاننا چاہتے تھے کہ کیا بری فوج بغیر ایئر فورس کی مدد کے ہندوستان کی چوکیوں پر کئے گئے قبضوں کو آزاد کروا پائے گی۔بتا دیں کہ 1999 میں پاکستان فوج نے دراندازوں کی مدد سے جموں و کشمیر میں کارگل، دراس، بٹالک سیکٹر کی کچھ چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے ٹپنس نے کہاکہ جب تک وید ملک واجپئی کے سوالوں کو جواب بھی دے پاتے میں نے کہا آرمی کو اس کی ضرورت ہے اور ہم اس کے لئے تیار ہیں، وزیر اعظم تھوڑے فکرمندہوئے پھر بولے کل صبح آغاز کرئیے گا۔سابق نیوی چیف سشیل کمار کی کتاب کے لانچنگ کے موقع پر ٹپنس نے میٹنگ کے اس لمحے کو یاد کیا جب واجپئی نے کہا تھا کہ ہم لوگ لائن آف کنٹرول پار نہیں کریں گے۔ٹپنس نے کہاکہ میں جیسا ان کی آواز سنا کرتا تھا، اس سے زیادہ رعب دار آواز میں انہوں نے کہاکہ نہیں ہم لوگ لائن آف کنٹرول پار نہیں کریں گے۔ ٹپنس نے کہا کہ ایئر فورس صرف 6 گھنٹے کے شارٹ نوٹس پر فوج کے ساتھ حملے کو تیار تھی۔